8 جون 2017 - 11:53
شامی صدر نے فون پر ایرانی ہم منصب کو تہران واقعہ کی تعزیت پیش کی

صدر بشار الاسد نے جمعرات کے روز اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے شامی حکومت کی جانب سے ایرانی حکومت، قوم اور واقعے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شامی صدر ' بشار الاسد' نے اپنے ایرانی ہم منصب ڈاکٹر 'حسن روحانی' سے فون پر رابطے کرکے تہران میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پر اپنی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا.

صدر بشار الاسد نے جمعرات کے روز اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے شامی حکومت کی جانب سے ایرانی حکومت، قوم اور واقعے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شامی حکومت اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے اپنے باہمی تعاون جاری رہے گا.

بشار الاسد نے کہا کہ دہشتگردوں کے ایسے وحشیانہ حملوں ایرانی حکومت کے مقابلے میں ان کی ناکامی کی علامت ہے اور ایران اور شام ہمیشہ کامیاب ہوجائیں گے.

ایرانی صدر نے اپنے شامی ہم منصب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم مستحکم ارادے کے ساتھ دہشت گردی، تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے.

ياد رہے کہ چار مسلح افراد نے گزشتہ روز تہران ميں ايرانی پارليمنٹ کے داخلی دروازے پر تعينات سيکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کے ابتدائی نتيجے ميں تين افراد زخمی ہوگئے.

پارليمنٹ پر فائرنگ کے چند لمحے بعد ہی فائرنگ کا دوسرا واقعہ پيش آيا جس ميں تين مسلح افراد نے تہران کے جنوبی علاقے ميں واقع بانی عظيم اسلامی انقلاب امام خمينی (رح) کے روضے کے باہر فائرنگ کردی.

امام خمينی (رح) روضے کے منتظمين ادارے کے عہديدار نے اس حوالے بتايا کہ مسلح شخص نے دو فائر کئے اور اس اپنے آپ کو بمب سے اڑا ليا.

ایران کے ادارہ لیگل میڈیکل کے مطابق تہران کے دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کی تعداد 17 ہوگئی ہے.

احمد شجاعی نے جمعرات کے روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 13 لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے جبکہ چار لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے.

فرانس کے خبررساں ادارے (اے ايف پی) کے مطابق، بدنام زمانہ داعش کی دہشتگرد تنظيم نے تہران ميں ہونے والے واقعات کی ذمہ داری قبول کرلی.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲